:
Breaking News

جھارکھنڈ راجیہ سبھا انتخابات 2026: کانگریس کو بڑا جھٹکا، کراس ووٹنگ سے بدلا سیاسی حساب

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

جھارکھنڈ راجیہ سبھا انتخابات 2026 میں کراس ووٹنگ کے بعد کانگریس امیدوار کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ پرمل ناتھوانی اور بی جے ایم کے امیدوار کامیاب ہوئے، جبکہ ریاست کی سیاست میں نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔

جھارکھنڈ میں راجیہ سبھا انتخابات 2026 کے نتائج سامنے آنے کے بعد ریاست کی سیاست میں ہلچل پیدا ہوگئی ہے۔ انتخابی نتائج نے حکمراں اتحاد کے اندر اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے، جہاں کانگریس امیدوار کی شکست کے بعد مہا گٹھ بندھن میں اعتماد کے بحران کی باتیں شروع ہوگئی ہیں۔

دو راجیہ سبھا نشستوں کے لیے ہونے والے مقابلے میں تین امیدوار میدان میں تھے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حمایت یافتہ آزاد امیدوار پرمل ناتھوانی نے کامیابی حاصل کی، جبکہ جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے امیدوار بیادی ناتھ رام بھی کامیاب رہے۔ دوسری جانب کانگریس کے امیدوار پرنَو جھا کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

انتخابی نتائج کے بعد سیاسی حلقوں میں سب سے زیادہ بحث کراس ووٹنگ کو لے کر ہو رہی ہے۔ کانگریس کا الزام ہے کہ اتحاد کے کچھ ساتھیوں نے اس کا ساتھ نہیں دیا، جس کی وجہ سے پارٹی امیدوار کو شکست ہوئی۔

کانگریس کے جھارکھنڈ انچارج کے راجو نے کہا کہ اتحادی جماعتوں کے رویے کی وجہ سے انتخابی نتیجہ متاثر ہوا۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ اس واقعے کا اثر مہا گٹھ بندھن کے تعلقات پر پڑ سکتا ہے۔

دوسری طرف این ڈی اے کی جانب سے جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کو سیاسی پیشکش بھی کی گئی ہے۔ جنتا دل یونائیٹڈ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اگر کانگریس کو حکومت سے الگ کر دیا جائے تو ایک نئی سیاسی ترتیب بن سکتی ہے۔

سیاسی بیان بازی کے درمیان یہ سوال بھی اٹھنے لگا ہے کہ کیا کانگریس اور بی جے پی کے بغیر جھارکھنڈ میں حکومت چل سکتی ہے؟

81 رکنی جھارکھنڈ اسمبلی میں حکومت بنانے کے لیے 41 ارکان کی حمایت ضروری ہے۔ موجودہ حالات میں ہیمنت سورین کی جماعت جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے پاس 34 ارکان ہیں۔ اگر کانگریس کو الگ کر دیا جائے تو حکومت کو مزید حمایت کی ضرورت ہوگی۔

سیاسی ماہرین کے مطابق اگر راشٹریہ جنتا دل کے چار ارکان، بھاکپا مالے کے دو ارکان اور ایک آزاد رکن کی حمایت شامل ہو جائے تو عددی حساب کے لحاظ سے حکومت بنانے کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔ تاہم صرف اعداد و شمار کافی نہیں ہوتے، سیاسی استحکام بھی ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے۔

راجیہ سبھا انتخابات کے ووٹنگ حساب نے بھی کئی سوالات کھڑے کیے ہیں۔ جھارکھنڈ اسمبلی میں ایک نشست حاصل کرنے کے لیے پہلی ترجیح کے طور پر تقریباً 28 ووٹ درکار تھے۔

مہا گٹھ بندھن کے پاس مجموعی طور پر 56 ارکان تھے۔ جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے امیدوار بیادی ناتھ رام کی کامیابی کے بعد اتحاد کے پاس دوسری نشست کے لیے بھی مطلوبہ تعداد موجود تھی۔ کانگریس کو امید تھی کہ اس کے امیدوار کو مکمل حمایت ملے گی، لیکن نتیجہ اس کے برعکس آیا۔

کانگریس امیدوار پرنَو جھا کو صرف 20 ووٹ حاصل ہوئے، جبکہ ان کے لیے زیادہ ووٹوں کی توقع کی جا رہی تھی۔ دوسری طرف این ڈی اے کے پاس تعداد کم ہونے کے باوجود پرمل ناتھوانی کو کامیابی کے لیے مطلوبہ ووٹ مل گئے۔

انتخابی عمل کے دوران تین ووٹ منسوخ بھی قرار دیے گئے۔ ان میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے دو اور کانگریس کا ایک ووٹ شامل تھا۔ ان ووٹوں کے منسوخ ہونے سے بھی انتخابی حساب متاثر ہوا۔

پرمل ناتھوانی کی یہ جھارکھنڈ سے راجیہ سبھا کے لیے تیسری کامیابی ہے۔ ان کی جیت نے ریاست میں ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ راجیہ سبھا انتخابات میں صرف پارٹی کی تعداد ہی نہیں بلکہ سیاسی حکمت عملی بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔

جھارکھنڈ کی موجودہ حکومت کے لیے سب سے بڑا امتحان اب اتحاد کو مضبوط رکھنا ہوگا۔ کانگریس کی ناراضی اور اتحادی جماعتوں کے درمیان پیدا ہونے والی دوری اگر بڑھتی ہے تو اس کا اثر ریاست کی سیاست پر پڑ سکتا ہے۔

تاہم موجودہ صورتحال میں حکومت کو فوری خطرہ نظر نہیں آ رہا، کیونکہ عددی اعتبار سے حکمراں اتحاد اب بھی مضبوط پوزیشن میں ہے۔ لیکن راجیہ سبھا انتخابات نے اتحاد کے اندر موجود اختلافات کو ضرور سامنے لا دیا ہے۔

آنے والے دنوں میں وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کو اتحادی جماعتوں کے ساتھ رابطہ مضبوط کرنا ہوگا تاکہ حکومت کی سیاسی استحکام برقرار رہے۔ دوسری طرف اپوزیشن جماعتیں اس موقع کو حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کریں گی۔

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *